ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جرمن شہریوں کو ہتھیار رکھنے کا حق ملنا چاہیے: مہاجرین مخالف جماعت

جرمن شہریوں کو ہتھیار رکھنے کا حق ملنا چاہیے: مہاجرین مخالف جماعت

Sun, 21 Aug 2016 17:59:48    S.O. News Service

 

برلن 21اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاجرین اور مسلم مخالف جرمن سیاسی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی( (AfDکی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے حملوں کے بعدجرمن شہریوں کو ذاتی دفاع کے لیے ہتھیار رکھنے کا حق دے دیناچاہیے۔مہاجرین کی جرمنی آمد کی سخت ترین مخالف اس جماعت کی مقبولیت میں حالیہ کچھ ماہ میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یورپ میں مہاجرین کے شدید بحران کو یہ جماعت اپنی مقبولیت میں اضافے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اسی وجہ سے اس نے مسلمانوں اورمہاجرین کے حوالے سے اپنے موقف میں شدت پیدا کی ہے۔ اس وجہ سے اب یہ جماعت جرمنی کی کُل16وفاقی ریاستوں میں سے آٹھ کی اسمبلیوں میں نشستوں کی حامل ہو چکی ہے۔گزشتہ ماہ شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ اور تارکین وطن کے طور پر جرمنی آنے والے دو عسکریت پسندوں کی جانب سے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کہا جا رہا ہے کہ یہ جماعت اگلے ماہ برلن اور میکلن برگ بالائی پومیرانیا کے صوبوں میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشستیں جیت سکتی ہے۔اے ایف ڈی یا متبادل برائے جرمنی کی خاتون سربراہ فراؤکے پیٹری نے ہفتہ بیس اگست کے روز شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، خود کو غیرمحفوظ سمجھنے والے جرمن شہریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ قانون پر عمل کرنے والے ہر شہری کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی، اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی حفاظت کرسکے۔
پیٹری کا مزید کہنا تھاکہ ہم سب جانتے ہیں کہ جائے واقعہ تک پولیس کے پہنچنے میں کتنا وقت لگ جاتا ہے، خصوصاََجہاں آبادی زیادہ ہو۔اپنے سخت اور متنازعہ بیانات کی وجہ سے اپنے حامیوں میں مقبول پیٹری نے اس سے قبل مطالبہ کیا تھا کہ جرمن پولیس کو ملک میں موجود غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف آتشیں اسلحے کے استعمال کی اجازت دی جانا چاہیے۔پیٹری نے اسلحے کے حوالے سے پہلے سے موجود جرمن قوانین کو مزید سخت بنانے کی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نقصان ذمہ دار شہریوں کو ہو گا اور وہ لوگ فائدے میں رہیں گے، جو غیرقانونی طریقے سے اسلحہ حاصل کر لیتے ہیں۔واضح رہے کہ اسلحے کے حوالے سے جرمنی یورپ کے سخت ترین قوانین کے حامل ممالک میں سے ایک ہے۔ جرمنی میں ہتھیاروں کے قانون کے مطابق کسی بھی اسلحے کے لیے لائسنس حاصل کرنا لازم ہے، جب کہ لائسنس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی شہری18برس کاہو اور اس کے پاس اسلحہ رکھنے کی کوئی مضبوط وجہ بھی ہو۔ اس سے قبل اسلحے کا لائسنس عموماََشکار یا شوٹنگ مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں ہی کو ملتا رہا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ رواں برس کے آغاز پر کولون میں خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کے بعد جرمن عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے اور اسی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ افراد نے اسلحے کے لائسنسوں کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چھوٹے آتشیں ہتھیاروں کے لائسنسوں کے لیے دی جانے والی درخواستوں میں49فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔


Share: